Thursday, November 28, 2024

ڈی چوک تک جانے کے ’متنازع‘ فیصلے سے ’لاپتہ‘ قیادت کے مانسہرہ پہنچنے تک: حالیہ احتجاج سے تحریک انصاف نے کیا کھویا اور کیا پایا؟

 

Imran khan 

  • عمر دراز ننگیانہ
  • عہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لیے تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنوں پر مشتمل احتجاجی جلوس لگ بھگ تین روز کے بعد منگل کی دوپہر اسلام آباد پہنچا تھا اور قائدین کی جانب سے مطالبات کی منظوری تک وہاں دھرنے کا اعلان کیا گیا تاہم چند ہی گھنٹے بعد حکومت کی طرف سے کریک ڈاؤن کیے جانے پر یہ پورا مجمع اُسی رات منتشر ہو گیا۔

چند عینی شاہدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے اس آپریشن کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کی جس میں چند مظاہرین کی ہلاکتیں ہوئیں، تاہم اسلام آباد پولیس اور وفاقی وزرا ان دعوؤں کی تردید کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ’نہ تو لاشیں گریں اور نہ ہی مذاکرات ہوئے، اور معاملہ حل ہو گیا۔۔۔‘

تاہم تحریک انصاف کے رہنماؤں کا بدستور الزام ہے کہ ’حکومت مرنے والوں کی تعداد کو چھپا رہی ہے اور ہسپتالوں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ درست معلومات جاری نہ کریں۔‘

دھرنے کے شرکا کے منتشر ہونے کے فوراً بعد حکومتی وزرا کا کہنا تھا کہ اس جلوس کی قیادت کرنے والے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی موقع سے ’فرار‘ ہو گئے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔


No comments:

Post a Comment